16 جون 2026 - 21:09
ایران-امریکہ کی مفاہمت نامہ، عظیم کامیابی ہے، حزب اللہ لبنان

حزب اللہ نے اپنے بیان اسلامی جمہوریہ ایران کو مبارکباد دیتے ہوئے اعلان کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت نامہ ایران کی استقامت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے اور لبنان سمیت مختلف مقاومتی محاذوں پر مکمل جنگ بندی کا باعث بنا ہے۔/ حزب اللہ نے انقلاب اسلامی کے رہبر، امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (دام ظلہ) کو خراج عقیدت و تحسین پیش کیا اور اعلان کیا ہے کہ آپ نے "اس مرحلے کو عدیم المثال حکمت، بہادری اور بصیرت کے ساتھ اس مرحلے کی ہدایت فرمائی ہے"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوزایجنسی ـ ابنا؛ حزب اللہ لبنان نے ایک رسمی بیان جاری کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران، رہبر معظم اور ایرانی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران ـ امریکہ مفاہمت نامے کا حصول "ایک بڑا کارنامہ" ہے جس نے لبنان سمیت تمام مقاومتی محاذوں پر جھڑپوں کے مکمل خاتمے کے اسباب فراہم کئے ہیں۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ، اس مفاہمت نامے تک پہنچنے سے حاصل ہونے والے عظیم  کارنامے پر اسلامی جمہوریہ ایران، اانقلاب اسلامی کے رہبر معظم اور ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہے جو لبنان سمیت تمام محاذوں پر جھڑپوں کے مکمل خاتمے پر منتج ہؤا ہے۔"

حزب اللہ نے زور دیا ہے کہ یہ کارنامہ "پیاری ایرانی قوم اور اس کے رہبرِ حکیم کی عدیم المثال استقامت، غیر معمولی استحکام اور انتہائی عظیم قربانیوں کا نتیجہ" ہے؛ ایک ایسی قوم جس نے اس تحریک کے بقول، "ایسے آپشنز پر ثابت قدمی اختیار کی جو ان کی عزت، خودمختاری اور آزادی کو یقینی بناتے ہیں۔"

اس بیان کے امتداد میں، حزب اللہ نے انقلاب اسلامی کے رہبر، امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (دام ظلہ) کو خراج عقیدت و تحسین پیش کیا اور اعلان کیا ہے کہ آپ نے "اس مرحلے کو عدیم المثال حکمت، بہادری اور بصیرت کے ساتھ اس مرحلے کی ہدایت فرمائی ہے"

نیز اس بیان میں ایران کے صدر اور حکومت اور مسلح افواج بشمول ـ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، فوج اور ایرانی قوم کی تعریف کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان اداروں نے "لبنان، لبنانی عوام اور مقاومت  کے ساتھ کھڑے ہو کر لبنان کی جنگ بندی اور اس کے حقوق کے تحفظ کے لئے کسی بھی معاہدے میں اس ملک کی موجودگی پر اصرار کیا۔"

حزب اللہ نے زور دیا ہے کہ ایران نے "اس راستے میں ناکہ بندی اور جارحیت کا بھاری بوجھ برداشت کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی جمہوریہ لبنان کے لئے ایک مضبوط حامی اور وفادار اتحادی ہے۔"

اس بیان کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے: "حزب اللہ زور دیتا ہے کہ اب تک جو کچھ حاصل ہؤا ہے، وہ سرزمین کی مکمل آزادی، قیدیوں کی وطن اور اپنے خاندانوں میں واپسی، تمام باشندوں خاص طور پر سرحدی بستیوں کے رہائشیوں کی اپنے گھروں میں واپسی اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کے [عظیم] مشن کی تکمیل کی تمہید ہے۔"

حزب اللہ نے اپنے بیان میں جنوبی لبنان کے عوام سے بھی کہا کہ وہ اپنے گھروں کی طرف واپسی میں جلدی نہ کریں اور حکام کی ہدایات کا انتظار کریں تاکہ وہ بحفاظت واپس آ سکیں اور اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی سے پیدا ہونے والے کسی بھی خطرے سے محفوظ رہیں۔

اس تحریک نے زور دیا: "اسرائیلی دشمن کو سمجھ لینا چاہئے کہ 2 مارچ سے پہلے والی حالت میں واپسی ممکن نہیں ہے، اور مقاومت ـ جو ہمیشہ وطن اور اس کے عوام کی بیدار نگہبان رہی ہے، ـ کوئی بھی ایسی جارحیت قبول نہیں کرے گی جو ملک کی خودمختاری اور اس کے عوام کے خون کو پامال کرتی ہو۔"

حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ مقاومت اپنی سرزمین، عوام اور خودمختاری کے دفاع کے حوالے سے لبنان کے جائز اور مستقل حق پر اس وقت تک قائم و کاربند رہے گی جب تک جارحوں کی مکمل پسپائی اور قیدیوں کی مکمل واپسی کا ہدف حاصل نہ ہو جائے۔

اس بیان کے آخر میں، حزب اللہ نے لبنانی حکومت اور سیاسی گروہوں سے کہا کہ وہ بڑے اہداف کے محور کے گرد متحد ہوں۔

حزب اللہ لبنان کے سیاسی دھاروں اور جماعتوں سے پچھلی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔

حزب اللہ نے لبنان کے مغرب نواز دھڑوں سے کہا کہ وہ وہم اور غلط اندازوں سے اجتناب کریں اور لبنان کے حقیقی دوستوں پر بھروسہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha